121

ایک ہی دن میں پانچ روپے کا اضافہ، ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

کراچی (نیوزڈیسک) انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 5 روپے 90 پیسے اضافہ ہو گیا جس سے ڈالر167 روپے 50 پیسے کا ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق ڈالر ملکی ترین کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔امریکی ڈالر کو ایک بار پھر لگ گئے ہیں اور پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں167وپے کا ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں میں بیرونی قرضوں میں اربوں روپے کا بھی اضافہ ہوگیا ہے۔انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں 5 روپے 90 پیسے کا اضافے ہوا ہے جس سے ڈالر 167 روپے 50 پیسے کا ہو گیا ہے۔9 ماہ بعد ڈالر اتنی مہنگی سطح پر ٹریڈ ہوا جبکہ انٹر بینک میں امریکی کرنسی کی قدر میں تین روز کے دوران 6 روپے 33 پیسے کا اضافہ ہوچکا ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے گھریلو قرضوں اور اسٹاک مارکیٹوں سے قلیل مدتی سرمایہ کاری نکالنے سے روپے کی قدر میں گراوٹ آئی۔اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کمی کے باعث سرمایہ کار پاکستان سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں جو ڈالر مہنگا ہونے کا سبب بن رہا ہے۔سٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر نے کہا ہے کرونا وائرس کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار نقد رقم کو ہاتھ میں رکھنے کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے اپنی سرمایہ کاری واپس نکال رہے ہیں۔ڈالر کی قدر میں ہوشربا اضافے کے باعث ملکی قرضوں کے بوجھ میں اربوں روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کمی کے باعث سرمایہ کار پاکستان سے پیسے نکال رہے ہیں جو ڈالر مہنگا ہونے کا سبب بن رہا ہے۔عارف حبیب لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچرز سمیع اللہ طارق کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے تین ہفتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے حکومتی قرضوں کی سیکیورٹی سے 1.56بلین ڈالر کی قلیل مدتی سرمایہ کاری واپس لی ہے جس کے نتیجے میں روپے پر جزوی دباؤ بڑھ گیا ہے۔تاہم گھبراہٹ میں مبتلا کچھ سرمایہ کاروں نے پختگی ہونے سے پہلے سے سیکیورٹیز فروخت کردی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں