140

کوروناوائرس ،تیل کی عالمی منڈی 18 سال پیچھے چلی گئی۔۔قیمتیں کم ترین سطح پر آگئیں

واشنگٹن(نیوزڈیسک)تیل کی عالمی منڈی کوروناوائرس کی وجہ سے 18 سال پیچھے چلی گئی۔ امریکی خام تیل مزید ایک ڈالر کمی کے ساتھ سترہ سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت بیس ڈالر ہوگئی ہے۔برطانوی خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق قیمتوں میں کمی کا یہ سلسلہ تھمتا ہوادکھائی نہیں

دے رہا۔ عالمی منڈی میں امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت میں پانچ اعشاریہ تین فیصد کمی ہوئی ہے اور تیل کی قیمت بیس ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔ برطانوی خام تیل کی بات کریں تو عالمی منڈی میں تیل برینٹ کروڈ آئل کی قیمت ساڑھ چھ فیصد کمی کے ساتھ تئیس ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔رائتڑز کے مطابق تیل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی اس وقت دیکھنے میں آئی جب دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے تیس ہزار افراد کی ہلاکت کی رپورٹس سامنے آئیں جبکہ امریکا اور یورپ اس موذی وبا پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیئے۔رپورٹس کے مطابق دنیا بھرمیں تیل کی کھپت میں لاکھوں بیرل کمی دیکھنے کو مل رہی ہے، عالمی سطح پر جاری لاک ڈاون کے باعث بیشتر ممالک کےتیل کے ذخائر بھر چکے ہیں ، طلب میں کمی ہوچکی ہے جبکہ رسد وافر مقدار میں موجود ہے اس لئے عالمی منڈی تیل کی قیمت پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔فنانشل ٹائمز کےمطابق ایشیائی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اٹھارہ سال کی کم ترین سطح پر ہیں جہاں امریکی خام تیل کی قیمت میں سات اعشاریہ چار فیصد کمی ہوئی ہے اور تیل کی قیمت انیس اعشاریہ 92ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔ اسی طرح برطانوی خام تیل کی ایشیائی منڈی میں 7اعشاریہ7فیصد قیمت کم ہوئی ہے اور برینٹ آئل 23اعشاریہ صفر تین پر فروخت ہورہا ہے۔بی بی سی کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمت سنہ 2002 میں اپنی قدر میں مندی سے بھی زیادہ گِر چکی ہے کیونکہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران خام تیل کی مانگ میں ریکارڈ کمی آئی ہے۔خام تیل کی قیمت اس وقت 23.03 ڈالر فی بیرل ہے۔ یہ نومبر 2002 کی مندی سے بھی کم ہے۔دوسری طرف امریکی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 18 سالہ تاریخ کی کم ترین سطح، 20 ڈالر فی بیرل، پر ہے۔گذشتہ ایک ماہ میں تیل کی قیمتیں نصف سے زیادہ گِر چکی ہیں۔ تیل کی کمپنیوں نے اپنی پیداوار کم کر دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں