153

کورونا وائرس، وہ ملک جہاں تمام مریض صحتیاب ہو گئے ، کورونا وائرس سے مکمل طور پر نجات حاصل کر لی

نیوک (نیوزڈیسک )کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے اور مریضوں کی تعداد 17 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ امریکہ میں حالات قابو سے باہر ہو تے جار ہے ہیں جہاں 20 ہزار سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ۔لیکن اس وقت دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں کورونا وائرس پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا اور اس وقت وہاں کورونا وائرس کا ایک بھی مریض نہیں ہے ، یہ ملک کوئی اور نہیں بلکہ ” گرین لینڈ ‘ جہاں وائرس سے متاثرہ تمام 11 مریض صحت یاب ہو گئے ہیں ۔گرین لینڈ کے نیشنل میڈیکل آفس کے مطابق 57 ہزار آبادی والے اس ملک میں 844 ٹیسٹوں میں 11 افراد میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی تھی۔گرین لینڈ کے تمام کیسز دارالحکومت نوک میں سامنے آئے تھے جس کی آبادی 18 ہزار سے زائد ہے۔ای یو آبزرور کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 11 کیسز کی تشخیص کے بعد گرین لینڈ میں سخت لاک ڈاؤن کا نفاذ ہوا تھا۔گرین لینڈ کی جانب سے تمام سرحدوں کو بھی بند کردیا گیا ہے اور سخت اقدامات کیے ہیں تاکہ دوبارہ یہ وائرس سر نہ اٹھاسکے۔اس مقصد کے لیے سرحدوں کو بند کردیا گیا ہے، ہوائی سفر، بحری جہاز یا کسی بھی ذریعے سے اب گرین لینڈ کا سفر نہیں کیا جاسکتا اور خصوصی اجازت کے بغیر کسی کو ملک سے باہر یا اندر آنے کی اجازت نہیں۔رپورٹ کے مطابق گرین لینڈ میں 18 ویں اور 19 ویں صدی میں جان لیوا وبائی امراض پھوٹ پڑے تھے اور کورونا وائرس بھی بڑے پیمانے پر پھیلنے کا ڈر تھا۔درحقیقت کیسز نہ ہونے کے باوجود گرین لینڈ میں سخت اقدامات کو برقرار رکھا گیا ہے اور ملک کے سابق وزیر صحت اووی روزینگ اولس نے بتایا کہ یہ لاک ڈاؤن ایک سال تک برقرار رہ سکتا ہے کیونکہ گرین لینڈ کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ زیادہ بیمار افراد کو سنبھال سکے۔ان کا کہنا تھا نظام تنفس کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ہماری صلاحیت محدود ہے، اگر نظام پر بوجھ بہت زیادہ بڑھ گیا تو بیشتر افراد ہلاک ہوجائیں گے، تو وائرس کو پھیلنے کا موقع دینے کی بجائے اس کی روک تھام اس وقت تک کرنا بہتر ہے جب تک ویکسین دستیاب نہیں ہوجاتی، میرا ماننا ہے کہ ہمیں طویل عرصے تک دیگر افراد سے بہت کم تعلق رکھنا ہوگا، کم از کم مزید 12 ماہ کے لیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں