166

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، پاکستان میں مقامی طور پر کورونا وائرس کے پھیلائو میںہوشربا اضافہ ، تشویشناک خبرآگئی

اسلام آباد (نیوزڈیسک )معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی مقامی ٹرانسمیشن 52 فیصد ہوچکی ہے، پہلے صرف بیرون ملک سے آنے والوں اور ٹیسٹ کے ذریعے مقامی لوگوں کی تشخیص کی جاتی تھی، لیکن اب پروایکٹو ٹیسٹنگ کریں گے، ٹریکنگ سسٹم کے تحت مریض کے علاقے میں قریبی لوگوں کے بھی ٹیسٹ کیے جائیں گے۔انہوں نے وفاقی وزیر اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک سے آنے والے مشتبہ افراد کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں، اسی طرح مقامی سطح پر لوگوں کو کیسے روکنا ہے؟ کورونا وائرس کی مقامی ٹرانسمیشن 52 فیصد ہوچکی ہے۔ پہلے ہماری کوشش تھی کہ ایسے مقامی لوگوں کی تشخیص کرکے روکا جاسکے۔لیکن اب ہم نے ایک پروایکٹو ٹیسٹنگ کرنی ہے، ٹریکنگ سسٹم کے تحت ہم نے مریض کے علاقے میں یا مریض کے جن سے رابطے ہوئے وہاں ٹیسٹ کرنے ہیں۔پاکستان میں27 ٹیسٹ لیبارٹریز قائم کی جاچکی ہیں،7کا مزید اضافہ ہونے والا ہے۔اب ہم یومیہ تین ہزار لوگوں کی ٹیسٹنگ پر آگئے ہیں۔اپریل کے آخر تک روزانہ 20سے 25 ہزار ٹیسٹ کرنے کا ہدف حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہمارے پاس اتنی ٹیسٹنگ کٹس موجود ہیں جس سے 6 لاکھ تک ٹیسٹ کیے جاسکتے ہیں، 15اپریل سے ٹیسٹنگ کی صلاحیت ایک ملین سے بڑھ جائے گی۔اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے بتایا کہ کل صبح قومی رابطہ کمیٹی کی سفارشات مرتب کی جائیں گی، کل پھر اجلاس ہوگا، جس میں15 مارچ کے بعد کیا کرنا ہے۔اس کی حکمت عملی بنائی جائے گی۔ صوبے کورونا وائرس سے متعلق تمام فیصلے مل کرکیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ حفاظتی تدابیر پر 100 فیصد عملدرآمد نہیں ہوا ہوگا، لیکن پھر کافی اقدامات اٹھائے جس کے نتائج بھی نظر آرہے ہیں، کاروباری لوگ اور بزنس مین ہمیں کہتے ہیں کہ ہمیں حفاظتی اقدامات سے متعلق بتائیں تاکہ ہم کاروبار چلائیں۔لیکن کاروباری حضرات پر ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کا بھی خیال رکھیں ، صحت برقرار رکھنے اور کورونا سے بچاؤ کیلئے حکومتی گائیڈلائن پر بھی عمل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز، نرسزاور فورسز کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں وہ بہت بھاری وزن اٹھا رہے ہیں، ضلعی انتظامیہ بڑی ذمہ داری اور محنت سے کام کررہی ہے۔وفاق نیشنل کمانڈ سنٹر کی ٹیم ہے، اس کے ساتھ جتنے لوگ بھی ہیں ، سب صبح رات جانفشانی سے کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا مقصد وباء کو پھیلنے سے روکنا ہے، اگر ہم ملک کے تمام باشندوں کو دوہفتے کیلئے کمروں میں بند کردیں، تو یہ ختم ہوجائے گا۔لیکن سب چیزیں بند کرکے ہم بھاری نقصان اٹھائیں گے۔اسلام آباد اور کچھ دوسرے شہرو ں میں ٹریکنگ سسٹم شروع کردیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں