174

قومی رابطہ کمیٹی نے لاک ڈاؤن کو مزید توسیع دینے کا فیصلہ کرلیا، مزید کتنا عرصہ لاک ڈائون جاری رہے گا؟

اسلام آباد (نیوزڈیسک)قومی رابطہ کمیٹی نے لاک ڈاؤن کو مزید توسیع دینے کا فیصلہ کرلیا، لاک ڈاؤن میں توسیع کا کل باقاعدہ اعلان کیا جائے گا، اجلاس میں تعمیراتی سیکٹر کا پہلا فیز کل سے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں چاروں وزراء اعلیٰ نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک بھر میں کورونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھانے اور عوامی آگاہی مہم کو مزید مئوثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔ اجلاس میں تمام وزراء اعلیٰ نے لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے لاک ڈاؤن میں توسیع سے متعلق اپنی تجویز پیش کی ہے کہ وفاقی حکومتی تمام فیصلے سندھ کی تجاویزکو مدنظررکھ کر کرے۔جس پر قومی رابطہ کمیٹی نے لاک ڈاؤن سے متعلق صوبوں کے ساتھ مل کرمشترکہ فیصلے کرنے پر اتفاق کیا۔ اسی طرح اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تعمیراتی سیکٹر کا پہلا فیز کل کھولا جائے گا۔ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ اعلان آئندہ 24 گھنٹے میں کردیا جائے گا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کل صبح قومی رابطہ کمیٹی کا کل پھر اجلاس ہوگا، جس میں15 مارچ کے بعد کیا کرنا ہے،اس حوالے سے حکمت عملی بنائی جائے گی۔کورونا وائرس سے متعلق تمام فیصلے صوبوں کے ساتھ مل کرکیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ حفاظتی تدابیر پر 100 فیصد عملدرآمد نہیں ہوا ہوگا، لیکن پھربھی کافی اقدامات اٹھائے جس کے نتائج کورونا وائرس کی شدت میں کمی کے نظر آرہے ہیں، کاروباری لوگ اور بزنس مین ہمیں کہتے ہیں کہ ہمیں حفاظتی اقدامات سے متعلق بتائیں تاکہ ہم کاروبار چلائیں۔لیکن کاروباری حضرات پر ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کا بھی خیال رکھیں ، صحت برقرار رکھنے اور کورونا سے بچاؤ کیلئے حکومتی گائیڈلائن پر بھی عمل کیا جائے گا۔ اس موقع پر معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ بیرون ممالک سے آنے والے مشتبہ افراد کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں، اسی طرح مقامی سطح پر لوگوں کو کیسے روکنا ہے؟ کورونا وائرس کی مقامی ٹرانسمیشن 52 فیصد ہوچکی ہے۔پہلے ہماری کوشش تھی کہ ایسے مقامی لوگوں کی تشخیص کرکے روکا جاسکے۔لیکن اب ہم نے ایک پروایکٹو ٹیسٹنگ کرنی ہے، ٹریکنگ سسٹم کے تحت ہم نے مریض کے علاقے میں یا مریض کے جن سے رابطے ہوئے وہاں ٹیسٹ کرنے ہیں۔پاکستان میں27 ٹیسٹ لیبارٹریز قائم کی جاچکی ہیں،7کا مزید اضافہ ہونے والا ہے۔اب ہم یومیہ تین ہزار لوگوں کی ٹیسٹنگ پر آگئے ہیں۔اپریل کے آخر تک روزانہ 20سے 25 ہزار ٹیسٹ کرنے کا ہدف حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہمارے پاس اتنی ٹیسٹنگ کٹس موجود ہیں جس سے 6 لاکھ تک ٹیسٹ کیے جاسکتے ہیں، 15اپریل سے ٹیسٹنگ کی صلاحیت ایک ملین سے بڑھ جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں